اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسلامی نقطۂ نظر سے فلسطین کا مسئلہ صرف موجودہ دور کا سیاسی اور جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ فلسطین کی سرزمین اسلامی متون میں دینی، تاریخی اور اخلاقی تصورات کے ایک مجموعے سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ تعلق سب سے زیادہ مسجد الاقصیٰ اور اس کے گردونواح کی سرزمین کی اہمیت میں نمایاں ہوتا ہے۔ قرآن نے اس سرزمین کو بابرکت قرار دیا ہے، جبکہ اسلامی تاریخ میں یہ مسلمانوں کا پہلا قبلہ اور رسول اکرم (ص) کے معراج کے واقعے سے وابستہ مقام ہے۔ اسی طرح متعدد انبیائے الٰہی کی زندگی اور دعوت کا تعلق بھی اس سرزمین سے رہا ہے۔
اس لیے قرآن اور فلسطین کے تعلق کا جائزہ لیتے وقت اس سرزمین کی دینی تقدس اور مختلف ادوار میں ہونے والی سیاسی و تاریخی تبدیلیوں، دونوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
قرآن میں مسجد الاقصیٰ کا تقدس
اس سرزمین کے مقدس مقام کی قرآن میں سب سے واضح نشاندہی سورۂ اسراء کی پہلی آیت میں ملتی ہے:
«سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَیٰ بِعَبْدِهِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَهُ...»
’’پاک اور منزہ ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجد حرام سے مسجد الاقصیٰ تک لے گئی، جس کے اردگرد ہم نے برکت عطا کی ہے۔‘‘
(سورۂ اسراء، آیت 1)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ مسجد الاقصیٰ کا اسلامی عقیدے سے تعلق محض ایک تاریخی تعلق نہیں ہے۔ قرآن نے خود اس مقام کو رسول اکرم (ص) کی سیرت کے ایک اہم ترین واقعے سے جوڑا ہے اور اس کے گردونواح کی سرزمین کو بابرکت قرار دیا ہے۔
بیت المقدس اور اس کے گردونواح کی سرزمین کی برکت اور رسول اکرم (ص) کے معراج کے واقعے میں اس کے مقام کے علاوہ، اس خطے کی اہمیت مسلمانوں کے پہلے قبلے سے بھی براہ راست جڑی ہوئی ہے۔
رسول اکرم (ص) نے مدینہ منورہ ہجرت کے بعد ایک عرصے تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی۔ پھر سورۂ بقرہ کی آیت 144 کے نزول کے بعد، ماہ رجب، دوسرے ہجری سال میں مسلمانوں کا قبلہ خانۂ کعبہ کی طرف تبدیل کردیا گیا۔ اس لیے ’’مسلمانوں کا پہلا قبلہ‘‘ کہنا ایک تاریخی اور مذہبی حقیقت پر مبنی ہے، محض علامتی تعبیر نہیں۔
اسلامی روایات میں بیت المقدس کی فضیلت
اسلامی روایات میں بھی بیت المقدس کو خاص مقام حاصل ہے۔ رسول اکرم (ص) نے مسجد الاقصیٰ کی فضیلت کو مسجد نبوی (ص) کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ امام محمد باقر (ع) نے اسے چار منتخب مساجد میں شمار کیا ہے، جبکہ امیرالمؤمنین حضرت علی (ع) سے منقول ہے:
«صَلَاةٌ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ تَعْدِلُ أَلْفَ صَلَاةٍ»
’’بیت المقدس میں ایک نماز ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے۔‘‘
(من لا یحضره الفقیه، جلد 1، صفحات 228، 229، 233)
یہ روایات اسلامی روایت میں بیت المقدس کی عبادتی فضیلت اور اس کے ممتاز مقام کو ظاہر کرتی ہیں۔
مظلوم کا دفاع؛ فلسطین کے مسئلے کا دوسرا پہلو
تاہم اسلامی تعلیمات میں فلسطین کی اہمیت صرف اس سرزمین کے تقدس اور عبادتی حیثیت تک محدود نہیں۔ قرآن وسیع تر انداز میں اہل ایمان کو مستضعفین اور مظلوموں کے حالات کے بارے میں ذمہ دار قرار دیتا ہے۔
سورۂ نساء کی آیت 75 میں مردوں، عورتوں اور بچوں پر مشتمل کمزور اور مظلوم لوگوں کی حالت سے بے حسی کو سوالیہ انداز میں چیلنج کیا گیا ہے۔ قرآن اہل ایمان کو ان کی مدد کی طرف متوجہ کرتا اور ظلم کے مقابلے میں ان کے دفاع کو جائز جدوجہد کے اسباب میں شمار کرتا ہے۔
اس لیے قرآن کی نظر میں فلسطین کے مسئلے کو صرف ایک سرزمین کے تنازع یا صرف مسجد الاقصیٰ کی فضیلت تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ اس سرزمین کی دینی اور تاریخی اہمیت کے ساتھ فلسطینی مظلوموں اور مستضعفین کی حمایت کی اخلاقی اور انسانی ذمہ داری بھی قرآنی تعلیمات میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
یہی مفہوم سورۂ حج کی آیت 39 میں بھی ایک دوسرے انداز سے بیان ہوا ہے:
«أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا...»
’’ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے، اجازت دی گئی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے۔‘‘
بیت المقدس؛ اسلامی تاریخ کا مستقل ورثہ
تاریخی اعتبار سے بھی مسلمانوں کا بیت المقدس سے تعلق صرف موجودہ دور تک محدود نہیں۔ پہلی صدی ہجری کے نصف اول میں بیت المقدس کی فتح کے بعد یہ شہر اسلامی دنیا کے سیاسی اور ثقافتی نظام میں مستقل مقام حاصل کرگیا۔ بعد کے ادوار میں صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں 583 ہجری، مطابق 1187 عیسوی میں صلیبیوں سے بیت المقدس کی واپسی بھی اس شہر کی اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ شمار ہوتی ہے۔
بیسویں صدی میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد فلسطین کا مسئلہ ایک تاریخی و دینی موضوع سے بڑھ کر اہم بین الاقوامی مسئلہ بن گیا۔ 1917 میں برطانیہ نے بالفور اعلامیے کے ذریعے فلسطین میں ’’یہودیوں کے لیے قومی وطن‘‘ کے قیام کی حمایت کی۔ بعد میں یہ پالیسی فلسطین میں برطانوی نظامِ انتداب کا حصہ بن گئی۔
اقوام متحدہ کی تاریخی رپورٹ کے مطابق 1922 میں فلسطین برطانوی انتظام کے تحت چلا گیا اور بالفور اعلامیہ بھی اس انتظام کا حصہ بنایا گیا۔ 1947 میں اقوام متحدہ کی قرارداد 181 کے ذریعے فلسطین کی تقسیم اور بیت المقدس کو بین الاقوامی انتظام میں دینے کی تجویز پیش کی گئی۔ ان تبدیلیوں نے فلسطین کے مسئلے کو سیاسی اور بین الاقوامی تنازع کے ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا۔
قرآن کے آئینے میں آج کا فلسطین
آج بھی فلسطین کا مسئلہ وسیع انسانی اور قانونی پہلو رکھتا ہے۔ فلسطینی علاقوں سے متعلق رپورٹس میں مسلسل فوجی کارروائیوں، بار بار نقل مکانی، رسائی پر پابندیوں، بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان اور غزہ و مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات کی نشاندہی کی جاتی ہے۔
اس لیے جب قرآن مسجد الاقصیٰ، اس کے گردونواح کی بابرکت سرزمین اور مستضعفین کے دفاع کا ذکر کرتا ہے تو یہ تصورات آج کے مسلمانوں کے لیے محض تاریخی باتیں نہیں رہتے۔ یہ ایک طرف قدس کے مقام کو سمجھنے کے لیے فکری بنیاد فراہم کرتے ہیں تو دوسری طرف فلسطین کے مظلوم انسانوں کی تکلیف کے بارے میں اخلاقی ذمہ داری کا احساس بھی دلاتے ہیں۔
قرآن کی نظر میں فلسطین کا تعلق عالم اسلام سے دو بنیادی راستوں سے قائم ہوتا ہے: ایک قدس اور مسجد الاقصیٰ کے ذریعے، جسے قرآن واقعۂ اسراء میں رسول اکرم (ص) کی رسالت سے براہ راست وابستہ اور بابرکت سرزمین قرار دیتا ہے؛ اور دوسرا ظلم و استضعاف کے مقابلے میں اخلاقی ذمہ داری اور مظلوم کے دفاع کے ذریعے۔
لہٰذا فلسطین کے مظلوموں کا دفاع صرف قدس کی تقدس کی وجہ سے نہیں بلکہ انسان کی حرمت اور مظلوم کی حمایت کے اس اخلاقی اصول کی بنیاد پر بھی ہے جو قرآنی تعلیمات کا ناقابلِ جدائی حصہ ہے۔
منابع
قرآن کریم
من لا یحضره الفقیه، شیخ صدوق، ابن بابویہ، محمد بن علی، تحقیق: علی اکبر غفاری، دفتر انتشارات اسلامی، جامعۂ مدرسین حوزۂ علمیہ قم، دوسری اشاعت، 1413 ہجری۔
مصنفہ: طاہرہ ندیمی تہرانی، پی ایچ ڈی علومِ قرآن و حدیث،
آپ کا تبصرہ